17 اکتوبر 2011 - 20:30

واشنگٹن… امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون کا کہنا ہے کہ رواں سال موسم گرما سے پاکستان سے افغانستان میں امریکی افواج پر حملوں میں اضافہ ہواہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ یہ حملے شدت پسند کررہے ہیں یا پاک فوج۔

ابنا: واشنگٹن میں صحافیوں سے بات چیت میں پریس سیکریٹری جارج لٹل نے بتایا کہ رواں سال جون سے اگست کے دوران پاکستانی علاقے سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی افسران کا کہنا ہے کہ راکٹ حملوں میں اضافہ مئی میں امریکی کارروائی میں اسامہ کی ہلاکت کے بعد سے ہوا ہے ، ان حملوں میں عموما 107ایم ایم راکٹ استعمال کیے جاتے ہیں لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ حملے شدت پسند کررہے ہیں یا یہ پاک فوج کی جانب سے جوابی کارروائی ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مئی سے اب تک افغان سرحدی علاقے میں امریکی فوج کی تین چوکیوں پر 102حملے کیے گئے جب کہ گذشتہ سال اسی عرصے میں ایسے 13حملے ہوئے تھے ،امریکی اخبار کے مطابق حملے جس منظم انداز سے کیے جارہے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے بعض امریکی افسران کا دعوی ہے کہ اس میں پاکستانی فوج یا انٹیلی جنس ملوث ہے،،امریکی اخبار کے مطابق جب امریکی فوجی حکام نے اس بارے میں سرحد پر تعینات پاکستانی فوجی حکام سے رابطہ کیا تو ان کا کہناتھا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے اور انہوں نے ایسا کوئی حملہ نہیں دیکھا ۔ 
.......

/169